عدالت، پاپولزم اور مفادات کا ٹکراو

جناب چیف جسٹس پر کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید ہوتی آئی ہے کہ وہ ایسے منصوبوں کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں جس کے لیے ملک کے وزیر اعظم بھی پر جوش ہوں؟ سوال یہ بھی اٹھایا جاتا رہا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ جس شعبے کو کام کرنے کی ضرورت ہے وہ عدلیہ ہے کہ بیسیوں ہزاروں مقدمات خاص طور پر نچلی عدالتوں میں سال ہا سال سے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ عدالتی اصلاحات پر بھی زور دیا جاتا رہا ہے۔

عدالت تو ایک طرف، عالمی فورمز سے تو سیاستدانوں پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ موجودہ عہد میں پاپولزم کی سیاست پوری دنیا کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مطلب عوام کو خوش کرنے اور محض ووٹ بٹورنے کے لیے نعرے بازی کی قیمت پھر ملکوں، خطوں اور عوام کو چکانا پڑتی ہے۔

تو ایسے میں سوال یہ بھی ہے آیا ’پاپولزم‘ کی عکاسی محض سیاست میں ہے، کیا عدلیہ بھی ایک اکائی کی حیثیت میں یا انفرادی حیثیت میں پاپولزم سے متاثر ہو رہی ہے؟ کیا کسی مقصد میں چیف جسٹس اور چیف ایگزیکٹو کی ایک ساتھ پرجوش شرکت کبھی بھی کسی بھی معاملے میں چیف ایگزیکٹو کے خلاف عدالتی کارروائی یا انصاف کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟ کیا امریکہ، یورپ میں بھی عدالت سے ریمارکس یا مہمات میں شرکت کے اعتبار سے کوئی ’’ایکٹوازم‘‘ یا پاپولزم نظر آتا ہے؟ یہ سوالات اٹھائے گئے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں جہاں شریک گفتگو تھے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جناب وجیہہ الدین، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یٰاسین آزاد اور نیویارک میں موجود قانون دان بیرسٹر افضال سپرا۔

جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جب ڈیموں کی تعمیر کے لیے متحرک ہیں۔ اشتہاری مہم چل رہی ہے اور وہ بذات خود فنڈ اکٹھے کرنے برطانیہ میں ہیں پاکستان کے اندر انہی ڈیموں کی تعمیر کے خلاف بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سندھ میں بالخصوص اور خیبرپختونخوا و بلوچستان سے بالعموم ان بھاشا اور منگلا ڈیم کی تعمیر کے خلاف احتجاج کی رپورٹیں آتی رہی ہیں۔ اس اعتبار سے کیا ان منصوبوں کو قومی یا غیر متنازعہ کہا جا سکتا ہے اور کیا عدالت کو ایسے منصوبوں کے لیے مہم میں حصہ لینا چاہیے؟

جسٹس وجیہہ الدین کہتے ہیں: ’’یہ یقییناً ایک ان چارٹڈ ٹیریٹری ہے (ایسی چیز جس کی حدودو قیود تحریر میں نہیں لائی گئیں)۔ لیکن ہمارے مسائل بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ اب دیکھیے واٹر کمشن سپریم کورٹ کو قائم کرنا پڑا۔ بے شک سندھ کی حد تک ہی سہی، یہ ایک ناگزیر کام تھا جو سپریم کورٹ کو کرنا پڑا اور اس کے مثبت نتائج آئے ہیں۔ یقیناً یہ (عدالتی اقدامات) معمول سے ہٹ کر ہی مگر حالات بھی تو معمول کے مطابق نہیں‘‘۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یاسین آزاد کے خیال میں چیف جسٹس کا ڈیم فنڈ کے لیے متحرک ہونا ہو یا پھر آئندہ کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر کمر کسنا عدلیہ کے کرنے کے کام نہیں ہیں۔ عدلیہ اگر انصاف کے عمل کو ہی سہل اور تیز تر بنادے، برسوں سے التوا میں پڑے مقدمات کا فیصلہ سنا دے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

جسٹس وجیہہ الدین کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کو ان اقدامات کے لیے آئین راستہ فراہم کرتا ہے۔ ’’بنیادی انسانی حقوق سے ان اقدامات کے لیے حمایت نکلتی ہے ۔ اس کی سپورٹ پرنسپلز آف پالیسیز جو آئین میں درج ہیں، وہاں سے نکلتی ہے‘‘۔

کیا امریکہ یا مغربی دنیا میں عدالت قومی نوعیت کے ہی سہی، انتظامی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے؟ نیویارک میں مقیم پاکستان نژاد امریکی قانون دان بیرسٹر افضال سپرا ایسے کسی امکان کو ہی مسترد کر تے ہیں۔ ’’نہیں۔ نہیں نہیں۔۔ میں اس چیز کے بہت خلاف ہوں۔ میں بحیثیت قانون کے طالبعلم کے جناب جسٹس ثاقب نثار کوآئیڈیلائز کیا کرتا تھا جب میں پاکستان میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور وہ ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔ لیکن میں اب حیران ہوتا ہوں کہ وہ کہاں کو چل دیے ہیں۔ دنیا کی کوئی عدالت، یا سپریم کورٹ کبھی اس طرح کی مہم کا حصہ بنی اور نہ میں نے اس کی مثال دنیا میں کہیں اور دیکھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان میں آئین چیف جسٹس کو اختیار دیتا ہے کہ وہ عوام کے مفادات کے معاملات پر نظر رکھیں لیکن وہ بھی اس لیول پر نہیں۔ یہ تو سول حکومت کے حق کو لات مارنے کے مترادف ہے‘‘۔

یاسین آزاد کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین چیف جسٹس کو چندہ مہم چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔

’’ انہوں نے ضرور کہا ہے کہ وہ ملک میں آبادی پر کنٹرول کی مہم ریٹائرمنٹ کے بعد چلائیں گے۔ لیکن میری سمجھ سے یہ بھی باہر ہے۔ ملک کا آئین واضح کرتا ہے کہ عدلیہ کے کیا فرائض ہیں۔ اس کی کیا حدود ہیں۔ انتظامیہ کا دائرہ اختیار کہاں تک ہے۔‘‘

عالمی مسائل کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر عالموں اداروں کی کئی ایک رپورٹوں کے پس منظر میں تجزیہ کاروں کی ایک رائے ہے کہ سیاستدان جو پاپولزم کی سیاست کرتے رہے ہیں، مقبول عوامی نعروں پر اقتدار میں آتے ہیں اس کرہ ارض پر حالات کو گھمبیر بنانے میں حصہ ڈالتے ہیں۔ کیا عدالتیں بھی عوامی مقبولیت کے عنصر سے متاثر ہو سکتی ہیں؟ کیا پاپولزم کا اطلاق عدالت سے وابستہ اکائیوں پر بھی ہو سکتا ہے؟

جسٹس وجیہہ الدین کے بقول، ’’پاکستان کے سپریم کورٹ یا موجودہ چیف جسٹس کے معاملات میں پاپولزم نظر نہیں آتا۔ چیف جسٹس اگر آبادی پر کنٹرول کی بات کر رہے ہیں تو وہ یہ کام اپنی مدت میں نہیں کر رہے۔ بعد میں کریں گے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کچھ بھی کر سکتا ہے‘‘

یاسین آزاد کہتے ہیں کہ، ’’ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہر ادارے کے سربراہ کو یہ دیکھنا ہے کہ اس کا اپنا ادارہ کہاں جا رہا ہے۔ لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی آئینی طریقہ اختیار کرنا ہے‘‘۔

اگر کوئی مہم یا مقصد ایسا ہو جس میں کسی ملک کا وزیر اعظم/چیف ایگزیکٹو اور ملک کا چیف جسٹس ایک ہی ساتھ کھڑے نظر آتے ہوں، کیا یہ پرجوش شرکت مستقبل میں چیف ایگزیکٹو کے خلاف ممکنہ مقدمات یا ان کے اقدامات کے خلاف انصاف کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

یاسین آزاد کہتے ہیں کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تناو تو کبھی بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تینوں ادارے انتظامیہ ، عدلیہ ، مقننہ سب اپنی حدود میں رہ کر کام کریں کیوں حالات کسی بھی وقت کچھ بھی رنگ اختیار کر سکتے ہیں۔

بیرسٹر افضال سپرا کہتے ہیں کہ بالکل یہ چیزیں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ دنیا جن چیزوں کو چھوڑ کر آگے گئی ہے۔ ہم وہ کر کے مزید پیچھے جا رہے ہیں۔ سارے اختیارات اگر ایک ادارے کے پاس جمع کر دیں تو جمہوریت کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔

بشکریہ : وائس آف امریکہ

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here