بھیڑچال کی صحافت

اسد حسن

کچھ چیزیں ہم بس اس لیے کرتے رہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بڑوں کو کرتے دیکھا تھا۔ بہت سے سوالات اور اصطلاحات بھی میڈیا میں اس وقت تک دہرائی جاتی ہیں جب تک کہ سننے والے کان نہیں لپیٹ لیتے۔ ایک اچھے اینکر نے اگر کوئی اچھوتا سوال اٹھا لیا تو ہفتوں اسی سوال کی چھاپ میں پورے کے پورے پروگرام کیے جاتے رہیں گے۔ بالکل ایسے جیسے ایک ہٹ مووی پر کم از کم بارہ ڈبہ مووی بن جاتی ہیں۔ بیانیہ جیسی اصطلاح تو آپ بھگت چکے ہوں گے؟

میں اکثر سوچتا ہوں کہ سقوط ڈھاکہ پر 16 دسمبر کو خصوصی ضمیمے چھپنے کا کیا مطلب ہے؟ ٹیلی ویژن پر خصوصی نشریات ، خصوصی پروگراموں کا اہتمام کیوں ہوتا ہے؟ اور یہ سوال بار بار کیوں کہ احسان اللہ احسان کو کیوں مہمان بنا رکھا ہے؟

سقوط ڈھاکہ کوئی ایسا معرکہ نہیں ہے جس کو اس خشوع و خضوع کے ساتھ یاد رکھا جائے۔۔ اگر اس کو یاد رکھنے کی دلیل یہ ہے کہ ہم اس سے کوئی سبق سیکھیں تو ایمان سے بتائیں ہم سبق سیکھنے والی قوم ہیں؟ کسی اور چیز سے سیکھا سبق؟ امریکہ میں نائن الیون ہوئے ابھی سترہ برس ہوئے ہیں اور پچھلے دس برسوں سے نائن الیون کی کوریج کو ’’ ڈاون پلے‘‘ کیا جاتا ہے ملک میں۔۔

ہم سقوط ڈھاکہ کو اس طرح زارو قطار یاد کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ ایک ایسے آزاد خودمختار ملک کو وجود دے چکا جس کو پاکستان تسلیم کرتا ہے۔ باقی حربی اعتبار سے بھی یہ بھی بڑے فخر کا سبب نہیں ہے تو کیونکر اس کو ڈاون پلے نہیں کیا جا سکتا؟ کیا یہ میڈیا کی بھیڑ چال ہے؟ کسی ریاستی ادارے کی ’’ سٹریٹجک موو‘‘ مجھے تو نہیں لگتی۔۔

میڈیا مالکان کی اکثریت کو تو سقوط ڈھاکہ کا تلفظ آتا ہو گا نہ اس کے بارے کچھ خاص معلوم ہو گا تو اس تکرار سے ہم حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ میری پیدائش سے دو سال پہلے کا یہ واقعہ ہے۔ ہم کم و بیش تین نسلیں اس کا ماتم کر چکیں، کافی نہیں؟ اگر سقوط ڈھاکہ کے نصابی کتابی سبق میں نفرت اور انتقام کی آگ کو زندہ رکھنا اگر مقصود ہے تو پہلے کبھی نفرت کام آئی جو اب آئے گی؟

اوپر سے سینیر صحافی یہ سوال لے کر بیٹھ جاتے ہیں سقوط ڈھاکہ سے کیا سبق سیکھا؟ یہ سوال ہیں یا کوسنے۔۔ میرے خیال میں تو اب آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔۔

اب آئیے دوسرے سوال اور کوسنے پر۔۔ احسان اللہ احسان کو ریاست نے مہمان بنا رکھا ہے، یہ جملہ سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ میں ایک عام سا سوال پوچھتا ہوں، جنرل امجد شعیب، ایر مارشل شہراد چوہدری اچھے دفاعی اذہان ہیں۔ منطق کے ساتھ گفتگو یا تجزیہ کرتے ہیں کیا وہ اچھے ٹی وی اینکر بھی ہو سکتے ہیں؟ غالب امکان ہے کہ نہیں۔۔ تو بھائی اگر وہ اچھے اینکر نہٰں ہو سکتے تو ہر اینکر (ایرا غیرا، نتھو پھتو خیرا) بیک وقت ماہرصحافت، معیشت، سیاست اور ماہر دفاع کیسے ہو سکتا ہے؟ ک

سی ریاٹائرڈ میجر کے در پر پڑے رہنے سے چار چھ دفاعی اصطلاحات آ سکتی ہیں، کچھ نقشے سمجھنے کی سائنس کی الف ب کا پتا چل سکتا ہے اور کچھ گروپوں کی حرارکی کی خبر ہو سکتی ہے اس بنیاد پر آپ جرنلسٹ سے جنرل کیسے بن سکتے ہیں؟ او بھائی اگر دشمن کی صفوں سے کوئی اہم بندہ پکڑا گیا ہے تو دنیا کا کونسا أصول کہتا ہے اسے تہہ تیغ کر دو۔ آپ کو کیا خبر وہ کس طرح سے معاونت کر رہا ہوسیکیورٹی اداروں کی؟ آپ کو کیا پتا کہ اس کی معلومات پر کس کس گروپ کو کس طرح سے نقصان پہنچایا گیا ہو گا۔۔؟

ارے بھائی ملا ضعیف پاکستان میں طالبان کے سفیر تھے، روز ترجمانی کرتے تھے طالبان کی، امریکہ پکڑ کر لے گیا، برسوں مہمان داری کے بعد گھر بھجوا دیا۔ طالبان نے اتحادی أفواج اور امریکہ کے کئی فوجی مارے تھے، تو کیا ملا ضعیف کو مار دیا جاتا۔۔؟

اب ذرا اسلامی جنگی ضابطہ اخلاق کی روشنی میں دیکھ لیجیے۔۔ دشمن کی فوج سے پکڑے جانے والی سپاہیوں کو کیا تہہ تیغ کر دیا جاتا تھا۔۔ ؟ او بھائی ملکوں کے سامنے بڑے بڑے مقاصد ہوتے ہیں اور اس کے لیے بعض أوقات چھوٹے چھوٹے کردار اہم ہو جاتے ہیں۔

اب اگر امریکہ جیسا ملک پاکستان سے مدد چاہتا ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت آگے بڑھانے میں کوئی کرادار ادار تو کیا وزیراعظم عمران خان طالبان کو ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوں یا جنرل باجوہ کمر کس لیں۔ او بھائی طالبان کے ساتھ رابطوں اور رابطوں میں اعتماد سازی میں کوئی احسان اللہ جیسا قیدی بھی تو کام آ سکتا ہے؟ کوئی حوالہ یا کوئی نیا حوالہ نہیں بن سکتا۔۔؟

ہم صحافیوں نے کبھی اس سبق سے سبق سیکھا کہ ’’ میں اگر جانتا ہوں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘ ہمارے ہاں تو سارے ارسطو ہیں، سقراط ، عقل کل ہیں۔ سارے کے سارے جرنلسٹ تو ہیں ہی، جرنیل بھی خود ہیں، جج بھی۔

اسد حسن وائس آف امریکہ میں صحافی ہے

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here