خادم رضوی کے سیانے جن

اسد حسن

حضرت مولانا خادم حسین رضوی جو بقول اوریا غیر مقبول جان عالم اسلام کے سب سے پڑھے لکھے سنی عالم ہیں، ان کے ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی ہے، سوچتا ہوں بھلا یہ تھانے یہ حوالات یا حوالات کی دال مولانا صاحب کو کیا ڈرا سکے گی۔ انس تو کیا جنات بھی ان کے عاشق ہیں۔ کوئی بلی بن کے آ دھمکتا ہے تو کوئی بلا پیچھے آن کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے گردے کو حکم دے سکتے ہیں کہ ’بندے دا پتر بن‘ اور پھر گردہ بندے کا پتر بن بھی جاتا ہے۔ وہ بلیوں کے شکل میں آئے جنات کو کہتے ہیں، او کوئی بندیائی کرو۔۔ ملاقات داو ی کوئی ٹئے م (ٹیم) ہوندا اے‘‘ اور جنات ہنستے ہوئے بھاگ لیتے ہیں۔ مولانا صاحب نے ایسی بینائی پائی ہے کہ ممتاز قادری کا مردہ اٹھ بیٹھتا ہے اور باتیں کرتا ان کو دکھائی دیتا ہے۔۔ ایسے باوصف اور کرامات سے بھرپور مولانا صاحب کا جیل کی صعوبتیں کیا بگاڑ پائیں گی۔۔

دوسری جماعت کی کتاب میں پڑھا تھا جال میں پھنسے شیر کا ممنون چوہا جال کتر کر اس کو رہائی دلوا دیتا ہے۔ بھارتی فلموں میں کئی گھوڑوں، کتوں،ہاتھیوں کو دیکھا اپنے مالک کو موت کے منہ سے نکالتے ہوئے۔ یہاں تو مولانا خادم رضوی کے جن ہیں۔ وہ کسی کو نظر آئے بنا حوالات کا دروازہ اکھاڑ سکتے ہیں۔ عینک والے جن اور الف لیلی کی کہانیوں کو یاد کریں تو یہ بھی ممکن ہے کہ مولانا صاحب کے جنات پورے عملے کو گہری نیند سلا کر مکھن سے بال کی طرح انہیں نکال لے جائیں اور پھر مولانا صاحب کسی اڑن طشتری میں بیٹھے اسلام آباد کا فضا سے معانئہ کرتے نظر آئیں۔۔
لیکن میری خوش گمانیوں پر پانی اس وقت پھر جاتا ہے جب میں پاکستانی پولیس کو یاد کرتا ہوں۔ زندگی میں دو دن کا پالا پڑا تھا، دو عشرے گزر گئے نہیں بھول پایا۔ پاکستانی پلس تو بقول ہمارے فنکار عمر شریف کے ہاتھی سے بھی کان پکڑوا کر کہلوا لے کہ ہاں بھائی میں ہرن ہوں۔ (بشرطیکہ گمشدہ ہرن کسی امیر آدمی کا ہو)۔ یہ پلس تو ایسی ہے کہ جسے دیکھ کر ممتاز قادری کا مردہ جو اپنے والد سے اٹھ کر باتیں کر رہا ہوتا ہے، دوبارہ مر جاتا ہے یا مردہ ہونے کی اداکاری کرنے لگ جاتا ہے۔ کیا ایسی پولیس کو مولانا خادم رضوی کے جن فکس کر سکیں گے؟ کیا یہ جنات مولانا کے سامنے رکھی دال میں بہشتی زعفران ڈال پاتے ہوں گے؟ کیا یہ جنات حوالات کے سوراخ سے بلی کی صورت گزر کر مولانا صاحب کے پاوں دباتے ہوں گے۔۔ یا پھر پاکستانی پولیس کے سامنے یہ بھی ’’بندے کے پتر‘‘ بن چکے ہیں؟ یہ جن اپنے آقا کو بچانے کے لیے جتن کرتے بھی ہیں یا نہیں۔

پنجاب میں جب کوئی شخص کسی خطرے کو بھانپ کر بچ بچاو کی راہ لے تو لوگ کہتے ہیں، فلاں کے جن بڑے سیانے ہیں۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کے پاکستانی پولیس کو دیکھتے ہوئےمولانا کے جن بھی سیانے ہو گئے ہیں، وہ کوئی چالاکی کرنے کے بجائے دور سے ہی مولانا صاحب کی خدمت میں ’’فلائنگ‘‘ سلام بھیجتے ہیں۔۔ اور مولانا صاحب بھی دور سے ہی چلاتے ہیں۔۔ نس جاوا اوئے۔۔۔۔ تساں جناں دی وی پین دی سری۔۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here