ظلمت کی صحر کب ہو گی؟

عرفان کیانی

پتا نہیں ملک خداداد سے ظلم کی کالی رات کب ختم ہو گی کہ ایک کے بعد ایک دل خراش واقعہ رونما ہو رہا ہے ۔

ساہیوال کا حالیہ واقعہ ہر آنکھ کو اشک بار کر گیا ہے اور بخدا جب سے یہ ظلم ہوا ہے مجھ میں ہمت نہیں کہ ٹی وی پے اس ظلم میں زندہ بچ جانے والے بچوں کو دیکھ سکوں ۔

اے پی ایس پشاورمیں بچوں کی شہادت کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے کہ دل لگتا ہے پھٹ جائے گا،دل ماننے کو تیار نہیں کہ نام نہاد محافظوں نے معصوم بچوں کے سامنے ان کی دنیا کیسے ویران کر دی مگر ایسا ہو چکا ہے ۔

دن دھاڑے ایک گاڑی کو سر عام روک کر اس میں سوار خاندان کو بھون ڈالنا اور بچ جانے والے بچوں کو اپنی گاڑی میں ڈال کے چلے جانا انسانیت کے نام پے بد نما داغ کے سوا کچھ نہیں ۔

سی ٹی ڈی( کاونڑ ٹیرریزم ڈیپارٹمنٹ) نے یہ واردات ڈالنے کے بعد پے درپے اپنے بیان بدلےاور شروع میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کا پیچھا کر کے ان کو ٹکھانے لگا دیا گیا ، پھر کہا کہ مرنے والے دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوے ہیں ۔

مگر بھلا ہو اس سوشل میڈیا کا جو سچ سامنے لے آیا اور موبائل کیمروں سے بنای جانے والی مختلف فوٹیج سامنے آتی گئیں جن سے محافظوں کے لباس میں درندوں کا شیطانی کھیل کا پردہ چاک ہوتا گیا۔

واقعہ پے موجود لوگوں کے بیانات کے مطابق آلٹو کار ٹول پلازا کے پاس پہنچی تو بیک سے آتی پولیس کی پک اپ وین سے چار سے پانچ ایلیٹ فورس کے بد بخت انسان نما بھیڑیے نیچے اترے اور کار میں سوار فیملی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی،اور گاڑی میں موجود زندہ مگر زخمی بچ جانے والے بچوں کو لیکر نکل گے ۔

دوسری فوٹیج سامنے آتی ہے جس میں ایک دوسری پک اپ آتی ہے اور یونیفارم میں ملبوس شیطان فیملی کی کار سے سامان اپنی گاڑی میں منتقل کرتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں۔

اب جب یہ معاملہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتا ہے اور میڈیا پر جب یہ واقعہ رپورٹ ہوتا ہے تو سی ٹی ڈی کی طرف سے فورا بیان سامنے آتا ہے کہ یہ آپریشن انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے کیا گیا تھا اور دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے فائر کیا گیا جس کے نتیجے میاں بیوی اور بچی اور کا ر کا ڈرائیور ہلاک ہو گے۔

بعد میں ایک اور بیان دیا کہ ہلاک ہونے والے اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے،اس تمام واقعہ پر حکومت کی آنکھ اس وقت کھلی جب پورا ملک پکار اٹھا اور پھر چوبیس گھنٹوں کے بعد پنجاب کے وزیر قانون تین وزیروں کے جھرمٹ میں سامنے آئے اور بجائے دکھی عوام کا دکھ کم کرتے اور بتاتے کہ ظالموں کو پکڑ لیا ہے اور جلد ہی ان کوعبرت کا نشان بنا دیا جائے گا ۔ وہ نہ صرف سی ٹی ڈی کا موقف دھرا گے بلکہ ایک نیا شوشا بھی چھوڑ گئے کہ ہلاک ہونے والوں کے دو خودکش دہشت گرد جو کے ان کے گھر سے فرار ہو رہے تھے ان کو بھی ہلاک کر دیا گیا ۔

یہ ہے تبدیلی سرکار اور مدینہ کی ریاست کے دعوے دار ۔

سمجھ سے بالا تر ہے یہ عمل کہ ان ظالموں نے دن دھاڑے ان معصوموں کو کیوں مارا ؟ اور اگر مان بھی لیا جائَ کہ یہ دہشت گرد تھے تو ان کو گرفتار کیوں نہیں کیا یا زخمی کر دیتے ایک ایک شخص کو دس دس بارہ باہ گولیاں کیوں ماریں، اس پر بچے کا یہ بیان کہ میرے والد نے ان ظالموں کو بولا تھا کے پیسے لے لو ہمیں نہ مارو مگر ان درندوں نے ایک نہ سنی۔

یہ اچانک نہیں ہوا سب مکمل منصوبہ بندی سے واردات ڈالی گی اور اب حکومت کا واقعہ پر طرز عمل کچھ اور داستان سناتا ہے ۔

اب ان بچوں کی زندگیاں تباہ کرنے کی بعد اگر حکومت سب شوائد کے ہوتے ہوئے اگر اب بھی ظالموں کا ساتھ دیتی ہے تو میری تو دعا ہے کہ اللّہ پاک اس ظلم میں شامل ہر فرد اور ادراے کو تباہ و برباد کر دے امین ۔

آخر کب ہم سکھ کا سانس لیں گے کب ہماری جان چھوٹے گی ان ناسوروں سے کہ جنہوں نے اپنا اور اپنی اولادوں کاحال روشن کرنے کے لیے پورے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔

اور اگر یہ ہی تبدیلی ہے تو پہلے والے ڈاکو بہتر تھے اور یہ اس ملک کا المیہ اور بد قسمتی ہے کہ خون جگر دیکر تبدیلی لاتی ہے اور آنے والے اس شدو مد سے نئے سرے سے خون چوسنے میں لگ جاتے ہیں کہ جانے والی حکومت پر فرشتوں کا گماں ہونے لگتا ہے اور ان کی یاد شدت سے ستانے لگتی ہے ۔

جب سے یہ دلخراش سانحہ ہوا ہے ہر پاکستانی درد سے تڑپ رہا ہے اور ہر پاکستانی یہ چاہتا ہے کہ بیان بازی سے اور واقعہ کو دہشت گردی میں لپیٹ کر اگر دبایا گیا تو اس کو ہر گز ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا بلکہ پھر ایک اور تبدیلی لائی جائے گی ان سب کو کسی گندے گٹر میں بہانے کے لیے۔

محترمہ ناصرہ زبیری بچوں کی فریاد کو اپنے الفاظ میں ڈالا ہے۔
“ زندہ بچنے والے بچوں کا بیان “

( ناصرہ زبیری)

ہم سفر میں تھے
ایک محفوظ راستے پر
ایسی منزل کی طرف
جہاں روشنی کی تتلیاں
ہمارے ساتھ رقص کرنے والی تھیں
لیکن پھر سفر میں رات ہوگئی
محفوظ راستہ اچانک جنگل میں بدل گیا
اورخونخوار جانوروں کے غول نے ہمیں گھیر لیا
جانے وہ بھیڑیے تھے کہ لگڑ بگڑ
یا شاید شکاری کتے ہوں
ہم خوف سے چھپ گئے
ماما، بابا، انکل ، آپی چُھپ نہ سکے
اور خون میں نہا گئے
اب کیمروں والے انکل پُوچھتے ہیں
کہ ہم کیا سوچتے ہیں ؟
انکل ہم سوچتے ہیں
کہ ہم چُھپے کیوں تھے!!

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here