میرشکیل الرحمٰن کی بے بنیاد گرفتاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بدترین مثال ہے، ایان علی

لاہور: منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت لینے والی پاکستان کی ماڈل اور گلوکارہ ایان علی نے ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میر شکیل الرحمٰن کی بے بنیاد گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ایان علی نے لکھا کہ ’وہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری اور غیرقانونی تحویل کی شدید مذمت کرتی ہیں۔‘

ایان علی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’میر شکیل الرحمٰن کو گزشتہ 6 ماہ سے بغیر کسی مقدمے کے نظر بند کیا ہوا ہے جو اِس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ایک بدترین مثال ہے۔‘

ماڈل نے اپنے کیس کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں خود بھی ماضی میں اِس طرح کے بے بنیاد الزاموں کی شکار رہی ہوں اِسی لیے میں میرشکیل الرحمٰن کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہوں۔‘

اُنہوں نے اپنے پیغام میں اعلیٰ عدلیہ سے درخواست کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میر شکیل الرحمٰن کو اس غیر قانونی نظر بند سے جلد از جلد آزاد کیا جائے۔‘

واضح رہے کہ ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میرشکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو 6 ماہ مکمل ہوگئے ہیں، نیب کے ہاتھوں میرشکیل الرحمٰن کی غیرقانونی گرفتاری کیخلاف ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

خیال رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت لینے والی ایان علی کا نیا ایلبم گزشتہ ماہ ہی جاری ہوا  تھا جسے اُن کے چاہنے والوں نے خوب پسند کیا تھا۔

ایان علی 14 مارچ 2015 کو اسلام آباد ائیرپورٹ سے پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے امریکی ڈالر دبئی اسمگل کرتے ہوئے گرفتار ہوئی تھیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں 2 سال تک ایان علی عدالت میں پیش ہوتی رہیں تاہم 2017 میں دبئی جانے کے بعد سے وہ عدالت کی سماعتوں میں غیر حاضر رہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here