یہاں اصلیت پراُترآتےہو:تنقید کرنےوالے کوماہرہ کاجواب

اداکارہ ماہرہ خان نے اینکرپرسن ماریہ میمن کی ایک پوسٹ شیئرکرنے سے متعلق صارف کی تنقید کا کرارا جواب دے ڈالا۔

ماہرہ خان نے ٹوئٹر پرماریہ میمن کے ایک ٹی وی شو کا ویڈیو کلپ ری ٹویٹ کیا تھا جس میں وہ خواتین کو حاصل تحفظ کے حوالے سے پاکستان اور دبئی کا موازنہ کررہی ہیں۔

ویڈیو کلپ میں مینارپاکستان پرخاتون ٹک ٹاکر کو ہراساں کرنے کے واقعے پرغم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ دبئی میں بھی خواتین مغربی لباس پہن کرکھلےعام گھومتی ہیں مگروہاں کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ انہیں چھیڑے۔ یہی 400 لوگ کل کو دبئی یا سعودیہ جائیں گےتو ہمت نہیں ہوگی کہ کسی خاتون کو ہاتھ لگائیں یا میلی آنکھ سے دیکھے کیوںکہ وہ اٹھا کر انہیں باہر پھینک دیں گے، یہ قانون کی بات ہے۔ 400 افراد کو معلوم تھا کہ دن دیہاڑے
ویڈیو بھی بنے گی تو انہیں کچھ نہیں ہوگا۔

ماہرہ خان کی جانب سے یہ کلپ ری ٹویٹ کرنے پرٹوئٹرصارف نے لکھا ‘ دبئی دبئی ہے، پاکستان پاکستان ہے میڈم جی ‘۔

اداکارہ نے اس ٹویٹ کو بھی ری ٹویٹ کرتے ہوئے صارف کو آڑٰے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا ‘ فرق یہ ہے کہ دبئی میں جیل ہوگی، یہاں نہیں، وہاں جرات نہیں ہے، یہاں اصلیت پر اترآتے ہو.


ماہرہ کے اس ردعمل پرٹوئٹرصارفین نے ملا جلا ردعمل دکھاتے ہوئے تبصرے کیے۔

لاہورسے تعلق رکھنے والی خاتون ٹک ٹاکرکو مینار پاکستان کے احاطے میں سیکڑوں افراد نے ہراساں کیا تھا۔ بعد ازاں خاتون کی جانب سے 400 افراد کیخلاف واقعے کی ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔

پولیس نے ملحقہ علاقوں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 100 سے زائد ملزمان کو حراست میں لے رکھا ہے، جن میں سے 15 ملزمان کو نادرا کی مدد سے شناخت کرلیا گیا جبکہ مزید ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

معاملے کے لیے قائم 4رکنی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ شناخت ہونے والے ملزمان میں شاہ زیب، عکاس اور حذیفہ وغيرہ شامل ہیں جبکہ ملزمان کے دیگر ساتھی کوہاٹ فرار ہوگئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے 15 ملزمان کو تفتیش کے لیے سی آئی اے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ہراساں کی جانے والی خاتون کی میڈکل رپورٹ میں سینے، گردن اور ہاتھوں پر سوجن جبکہ جسم پر تشدد کے واضح نشانات ہیں تاہم میڈیکل رپورٹ میں ریپ کے شواہد نہیں ملے۔

واقعے کے بعد سیاسی، سماجی و شوبزشخصیات نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دکھاتے ہوئے حکومت سے ذمہ داران کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here