سال 2018 میں پاکستان میں 4 انیمیٹڈ فلمیں بنیں

کراچی: پاکستان فلم انڈسٹری میں نئے ٹرینئڈ کے تحت اینیمیٹڈ فلموں بنانے کے رجحان میں اضافہ ہونے لگا ۔سال دو ہزار اٹھارہ میں بچوں کے لیے بنائی گئی چاراینیمیٹڈ فلمیں سیمنا گھروں کی زینت بنیں۔

سپر ہیروز کے پسندیدہ کردار ،ایکشن، مزاح، اور جذبات اور سبق آموز کہانیوں سے لبریز پاکستان کی سنیما انڈسٹری میں اینیمیٹڈ فلموں کا نیا ٹڑینڈ تیزی سے فروغ پارہاہے۔

جس کی بنیاد آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز و ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے نے رکھی۔سال دو ہزار اٹھارہ میں بھی چار پاکستانی اینیمیٹڈ

راچی:(18 دسمبر 2018) پاکستان فلم انڈسٹری میں نئے ٹرینئڈ کے تحت اینیمیٹڈ فلموں بنانے کے رجحان میں اضافہ ہونے لگا ۔سال دو ہزار اٹھارہ میں بچوں کے لیے بنائی گئی چاراینیمیٹڈ فلمیں سیمنا گھروں کی زینت بنیں۔

سپر ہیروز کے پسندیدہ کردار ،ایکشن، مزاح، اور جذبات اور سبق آموز کہانیوں سے لبریز پاکستان کی سنیما انڈسٹری میں اینیمیٹڈ فلموں کا نیا ٹڑینڈ تیزی سے فروغ پارہاہے۔

جس کی بنیاد آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز و ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے نے رکھی۔سال دو ہزار اٹھارہ میں بھی چار پاکستانی اینیمیٹڈ فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں۔

دو فروری کو پاکستانی فلم اللہ یار اینڈ دی لیجند آف مارخور سینما گھروں کی زینت بنی جس میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں رہنے والے بچے اللہ یار کی کہانی کو دیکھایا گیا۔ فلم میں پاکستان کا قومی پرندہ چکور اور قومی جانور مارخور کی خوبصورت اینیمیشن کی گئی ہے ۔

تئیس مارچ کو پاکستانی فلم ٹک ٹاک بھی سینما گھروں کی زینت بنی جس میں فلمی کردار ماضی میں چلے جاتے ہیں۔

تیرہ اکتوبر کو پاکستانی فلم ڈونکی کنگ کو نمائش کے لئے پیش کیا گیا ۔فلم نے اب تک پاکستان میں اینیمیٹڈ فلموں کے لحاظ سے ریکارڈ بزنس کیا اور باکس آفس یں تئیس کروڑ سے زائد کا بزنس کیا۔

دو ہزار اٹھارہ کے آخر میں چودہ دسمبر کو تین بہادر کا تیسرا اور آخری سیکوئل ریلز ہوا،جس میں مزید کرداروں اور سپر ہیروز کو شامل کیا گیا۔

دو ہزار اٹھارہ میں مجموعی طور پر اکیس فلمیں ریلیز کی گئیں جس میں چار فلمیں اینیمیٹڈ ہیں۔ جس سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ آنے والے عرصے میں مزید اینیمیٹڈ پاکستانی فلمیں شائقین کے لئے پیش کی جا سکتی ہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here