دنیا بھر میں پندرہ سے بیس کھرب ڈالرز بدعنوانی ہوتی ہے، آئی ایم ایف چیف

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگاردے نے انتباہ کیاہے کہ دنیا بھر میں پندرہ سے بیس کھرب ڈالرز بدعنوانی ہوتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگاردے نے انتباہ کیاہے کہ دنیا بھر میں پندرہ سے بیس کھرب ڈالرز بدعنوانی ہوتی ہے۔ کرپشن میکرو معیشت پر اثر انداز ہوتی ہےجوصرف شرح نمو کے لیے نہیں بلکہ اعتماد کے لیے بھی مسئلہ ہے۔

آئی ایم ایف چیف لیگاردے نے دبئی میں جاری عالمی حکومت کانفرنس میں شرکت کے موقع پر عرب ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ آئی ایم ایف نے چھ ماہ پہلےعالمی معیشت کو درپیش مسائل اور اس کے کم زو ر پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا۔ اور ان کی شناخت کی تھی۔اس سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اگر زیادہ بدعنوانی ہوگی تو پھر اعتماد کا فقدان ہوگا ،کم آمدن ہوگی اور نوجوان اپنے ممالک کو چلانے والے اداروں پر کم اعتماد کریں گے۔

آئی ایم ایف سربراہ کے تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں پندرہ سے بیس کھرب ڈالرز بدعنوانی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی سالانہ شرح نمو میں ایک فی صد کمی کردی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں گذشتہ سال اکتوبر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اب بھی ان میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ او ر دوہزار چودہ سے تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام پایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف خطے کو مجموعی طور پر دیکھتا ہے اور وہ بالعموم ان میں تیل برآمد کرنے اور درآمد کرنے والے ممالک کے لحاظ سے فرق کرتا ہے۔

عالمی معیشت کو درپیش خطرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی پائی جارہی ہے۔ اور اس ضمن میں ان دونوں ممالک کے درمیان اب تک ہونے والی بات چیت کامیا ب نہیں ہوسکی ہے

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here