چین میں کرونا وائرس کے پھیلائو میں امریکہ کا ہاتھ

چینی سائنسدانوں کا دعوی ووھان شہر کو کروونا وئرس کے لیے کیوں منتخب کیا گیا-

چین نے کرونا وائرس پھیلانے کا الزام امریکا پر لگا دیا ھے اور اقوام متحدہ میں معاملہ لے جانے کا عندیہ بھی دیا ہے،روسی سائنسدانوں نے بھی چین کے اس دعوے کی تصدیق کردی ھے چائنہ کی طرف سے کہا گیا ھے کہ یہ امریکا کا ایک خوفناک بائیولوجیکل حملہ تھا،جس نے چین کو پوری دنیا میں تنہا کردیا ہےاور چین کو ٹریلین ڈالرز کا نقصان ھوا پوری دنیا نے چینی مصنوعات درآمد کرنے پہ پابندیاں لگا دیں اور امریکا کی یہی خواھش تھی کہ چین کو معاشی طور پر کمزور کردے۔

دوسری طرف روسی سائنسدانو کا خیال ھے کہ یہ ایک امریکی سازش تھی جس کا مقصد چین کی بڑھتی ھوئی معاشی طاقت کو روکنا اور وائرس کے پھیلاو کے بعد اربوں ڈالرز کی ویکسین بیچ کر پیسہ کمانا ہے،چائنیز سائنسدانوں نے یہ دعوی کیا ھے امریکی لیبارٹریز میں اس وائرس کو تخلیق کیا گیا ھے اور وھیں اسکو ایک بائیولوجیکل ویپن کی شکل دی گئی ھے اور امریکی ڈپلومیٹک عملے کے ذریعے یہ وائرس چین تک پہنچایا گیا ہے۔

روسی خبررساں ایجنسی نے کہا ھے کہ امریکا نے یہ وائرس چین میں پھیلا کے اس کا ٹیسٹ کیا ھے اور امریکی فارماسسٹس کو راتوں رات اربوں ڈالرز کمانے کا موقع بھی فراھم کیا ہے،امریکہ اور چین کے تنازعات سب کے سامنے ھیں ایک سپر پاور اور اسکے ایک بڑے اور تیزی سے بڑھتے ھوئے حریف کے اثر کو کم کرنے کے تناظر میں بھی دیکھا جارھا ہے۔

اس تنازعہ کا دائرہ ٹریڈ وار سے لیکر جنوبی چائنہ کے سمندر اور 5G انٹرنیٹ کے تنازعات تک ھے بائیوکیمیکل سے متعلق امریکن کمیشن کے سابق میمبران کا دعوی ھے کہ ان سے چائینیز دوستوں نے رابطہ کیا تھا جو یہ سمجھتے کہ یہ وائرس انسانی تخلیق ہے،ان میں سے ایک کا یہ خیال ھے کہ اس وائرس اٹیک کے لیے ووھان شہر کو اسلیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ شہر چائنا کے بلکل سینٹر میں ھے اور یہ مرکزی ٹرانسپوٹیشن حب ہےاور یہ ٹائیم اس لیے چنا گیا کہ چائینیز کا نیا سال آنے والا تھا اور سالانہ چھٹیاں بھی پڑنی والی تھی اور ایسے موقع پر پورے ملک سے لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر چھٹیاں منانے کے لیے ٹریول کرتے ھیں اور لاکھوں لوگ اس شہر کو وزٹ کرتے ھیں اور یہاں سے بیرون ملک بھی سفر کرتے ہیں۔

اور یہ امریکی بائیو لیبارٹریز کے لیے بھی رقم کمانے کا اچھا موقع ھے اس وقت دنیا میں امریکہ وہ واحد ملک ھے جس کے پاس 400 فوجی بائیو لیبارٹریز ھیں جوکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے،یہ روس کے آس پاس بھی ھیں اسکے علاوہ چائنا،ملائیشیا اور فلپائن کے آس پاس بھی موجود ھیں اور شاید ھی کوئی ایسی جگہ ھو جو امریکہ کی پہنچ سے دور ہو –

چائنا میں تو بڑی تعداد میں لوگوں نے اس بات کو سنجیدگی سے لے لیا ہے،لیکن گلوبل ٹائمز کے مطابق زیادہ تر لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے جبکہ روس نے اپنی مشرقی سرحد کو مکمل بند کردیا ہے تاکہ وائرس کو روس سے دور رکھا جائے،چین اور روس کے درمیان 25 سرحدی کراسنگ ھیں یہ تمام 21 جنوری کی رات کو بند کردی گئی تھیں اسکے باوجود بھی روس میں دو کیس رپورٹ ھوچکے ھیں اور یہ متاثرہ افراد چائینیز تھے۔

اسوقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس بیماری سے متاثر ہوچکے ھیں اور سینکڑوں ھلاک ھوچکے ھیں جبکہ نئے کیسزز بھی تواتر کے ساتھ سامنے آرہے ہیں،مزے کی بات ھے کہ کوئی بھی مغربی ملک اس وائرس سے متاثر نہیں ہے-

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here