طالبان نے داڑھی مونڈھنے اور خواتین کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی کی تردید کردی

کابل: طالبان نے افغانستان میں داڑھی مونڈھنے اور خواتین کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی لگانے سے متعلق تمام خبروں کی تردید کردی۔

افغان میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارت ثقافت اور اطلاعات کے عہدیداروں نے حالیہ خبروں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ داڑھی کی لمبائی اور مختلف صوبوں میں خواتین کے اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی طالبان کی سرکاری پالیسی میں شامل نہیں ہے۔

طالبان عہدیداران کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب مبینہ طور پر افغانستان کے صوبوں کاپیسا، ہلمند اور تخار میں ایک خط حجاموں کو دیا گیا جس میں داڑھی تراشنے اور خواتین کے اسمارٹ فونز پر پابندی سے متعلق ہدایات درج تھیں۔

وزارت ثقافت اور اطلاعات میں ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیان سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا، جو کچھ سوشل میڈیا پر ہے وہ وزارت کی طرف سے نہیں ہے۔

افغانستان کی قومی یکجہتی پارٹی کے سربراہ سید اسحاق گیلانی نے بھی ان تمام خبروں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندیاں لگانے سے طالبان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس طرح کی حرکتیں امارت اسلامی افغانستان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس سے دنیا گھبراتی ہے اور اس سے ہماری بین الاقوامی پہچان ناممکن رہے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ طالبان حکومت کے ڈائریکٹر انفارمیشن اینڈ کلچر حافظ رشید ہلمند نے افغان میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ مردوں کے داڑھی مونڈھوانے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کا اعلان مذہبی پولیس کی جانب سے صوبے کے حجاموں کے ساتھ ہوئی ایک میٹنگ کے دوران کیا گیا ہے۔

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر طالبان کا ایک مبینہ خط بھی گردش کررہا ہے جس میں حجاموں کو کسی بھی شخص کی داڑھی مونڈھنے کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے حجام دکانوں پر کام کے دوران موسیقی بھی نہیں بجا سکیں گے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here