سات دن محبت ان

 

 ظہیر احمد

عید پر ریلیز ہونے والی فلم سات دن محبت ان دیکھنے کا اتفاق ہوا۔عید کی چوتھے دن بھی ہاوس فل تھا عید پر چار پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئی۔مقابلے کے باوجود فلم پر رش دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی اس فلم کی طرح باقی تین فلموں کی پبلسٹی بھی موثر انداز سے کی گئی مگر اس فلم کا شائد ایک اور پلس پوائینٹ ماہرہ خان ہیں جو کہ فلم کی ہیروئین ہیں۔۔۔اگر فلم پر تنقیدی نظر ڈالی جائے تو فلم کی کہانی بنیادی طور پر ہلکے پھلکے مزاح سے بھرپور ہے جس میں میوزک ایکشن اور سنجیدگی کا تڑکا بھی موجود ہے مصنف فصیح باری خان ہیں جو کہ متعدد ڈرامے لکھ چکے ہیں ۔کہانی کا موضوع نیا ہے جو مزاحیہ ہونے کے ساتھ سسپنس یا تجسس بھی لیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے دیکھنے والے کو اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی اور فلم جھول یا جمپ کا شکار بھی نہیں ہوتی۔۔ہدایتکاری کا شعبہ بھی قابل تعریف ہے۔ فرجاد نبی اور مینو نے ملکر اس سے پہلے زندہ بھاگ کی ہدایتکاری بھی دی ہے مگر 7 دن محبت ان کہیں بہتر فلم ہے

کہانی کو اچھآ ٹریٹ کرنے کے ساتھ ساتھ تمام ادارکاروں سے بھی اچھا کام لیا ہے اور فلم میں باقاعدہ ایک کلائمکس موجود ہے جس کی کمی آجکل اکثر محسوس ہوتی ہے اگرچہ فلم کا مزاج ڈراموں والا ہے مگر جاوید شیخ کا کردار اور فلم کا دوسرا ہاف محسوس کرواتا ہے کہ ڈرامہ نہیں فلم ہی دیکھ رہے ہیں۔ ویسے تو کہانی کی ڈیمانڈ ہی نہیں تھی کہ کوئی بہت ہی اچھی لوکیشن پر جاکر فلمائی جاتی مگر جاوید شیخ جنھوں نے ایک جن کا کردار کیا ہے انکا ٹھکانہ بہت اچھا اور تصوراتی سا دکھایا ہے سو یہ کریڈٹ بہرحال ہدایتکار کو جاتا ہے کہ فلم کے ٹمپو کی وجہ سے کہیں بھی دیکھنے والے اکتاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

اداکاری کے شعبے میں جاوید شیخ نے جن کا کرداربہت اچھا نبھایا اور فلم میں جان ڈالے رکھی ہیرو کا کردار کرنے والے شہریار منور ڈراموں کے مانے ہوئے اداکار ہیں جو اس سے پہلے ماہرہ خان کے ساتھ ہی ہومن جہاں کر چکے ہیں انھوں نے بھی اپنا کردار خوب ادا کیا ان کے  کردار کے دونوں شیڈز قابل تعریف ہیں۔ انکے کردار میں کوئی مل گیا کے رتیک روشن کی جھلک بھی نظر آئی یہ ایک اتفاق بھِی ہو سکتا ہے۔ فلم کی ہیروئن ماہرہ خان نے بھی اچھا کام کیا اگرچہ انکے کردار میں مزاح کا عنصر اتنا نہیں تھا جتنا ہیرو یا جاوید شیخ کے کردار میں تھا یا پھر اگر انکے کردار میں یہ عنصر موجود بھی تھا تو شائد انکے مخصوص انداز کی وجہ سے نظر نہیں آسکا کیونکہ کسی بھی کردار کو ادا کرنے کے دو طریقے ہیں یا تو کردار میں کھو کر اداکار اپنی شخصیت بھول جائے جیسا کہ ہالی وڈ کے انتھونی کوئن کرتے تھے یا پھر اپنی شخصیت کا تاثر رکھ کر کردار کیا جائے جیسا کہ مارلن برانڈو کرتے تھے جن کا گاڈ فادر کا کردار آج بھی یاد ہے۔ ماہرہ خان کا شمار بھی دوسری قسم کے اداکاروں میں ہوتا ہے جن کے اپنی شخصیت کا تاثر ہر کردار میں آتا ہے مگر ایسے اداکاروں کی اسکرین پر موجودگی ہی فلم کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ عامرقریشی نے نصیر کان کٹا کا ولن کا کردار اچھا ادا کیا اور شکر ہے شمعون عباسی سے ہٹ کر بھی اب کوئی چہرہ آیا بلبلے کی مومو حنا دلپذیر نے بھی کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ آمنہ الیاس ٹھیک رہی اور میرا سیٹھی کو بڑی اسکرین پر کام کا ابھی تجربہ چایئے۔

فلم کا میوزک ارشد محمود شجاع ارشد کا ہے یونہی راستے میں اور نہ ہار مانگوں نہ موتی مانگوں اچھے گانے ہیں اسکے علاوہ ایک ائٹم نبر بھی ہے اور فلم کے کلائمکس پر کاہے کو بیاہی بھی اچھآ ہے۔ فلم 7 دن محبت ان کو وہ لوگ ضرور دیکھیں جو ہلکی پھلکی مزاحیہ فلمیں دیکھتے ہیں اور جو لوگ لڑائی مار کٹائی یا بہت ہی زیادہ سنجیدہ موضوع کی فلمیں دیکھتے ہیں ان کو شائد یہ فلم پسند نہ آئے۔۔اس فلم کو دس میں سے سات نمبرز یا پانچ میں سے ساڑھے تین سٹارز با آسانی دیئے جا سکتے ہیں

Author works as a news Producer at private channel and writes articles since 2012. He tweets as @zaheerlatif

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here