جوانی پھر نہیں آنی ٹو

ظہیر احمد

عید پر ریلیز ہونے والی فلم جوانی پھر نہیں آنی پارٹ ٹو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ سب سے پہلے اگر فلم کی خوبیاں زیر بحث لائی جائیں تو پاکستانی سنیما اس وقت ترقی کے مرحلے میں ہے۔ ملٹی اسکرین سنیما کا موازنہ اگر پرانے سنیماوں سے کیا جائے تو ملٹی اسکرین کی تفریح قدرے مہنگی مگر معیاری ہے اور اب فیملز کے لیے ماحول بھی زیادہ بہتر ہے اور سب سے بڑھ کر مہنگے ٹکٹ کے باوجود ایک دن میں کسی ایک فلم کے نو یا دس شو بھی ہوتے ہیں اسکے باجود ٹکٹ بھی بغیر ایڈوانس بکنگ کے نہیں ملتے جبکہ پرانے سنیماوں میں چھٹی والے دن یا عید یا کسی تہوار پر دن میں چار شو ہوتے تھے ورنہ تین شو ہوتے تھے جس میں آخری شو جو رات ساڑھے نو بجے لگتا تھا وہ شو کم ہی لوگ دیکھنے آتے تھے مگر اب تو رات دو بجے تین بجے یہاں تک کہ صبح چار بجے والے شو بھی فل جاتے ہیں۔

جوانی پھر نہیں آنی سنی پیکس پر دیکھی جہاں بڑا بورڈ پرواز ہے جنون کا اور اس کے برابر لوڈ ویڈنگ کا بورڈ تھآ ایک بار تو ایسے لگا شائد یہاں جوانی پھر نہیں آنی آئی نہیں مگر اندر جانے پر معلوم ہوا فلم نہ صرف لگی ہوئی ہے بلکہ سب سے زیادہ رش بھی اسی پر ہے۔ یہ دیکھ کر کسی کا جملہ یاد آیا کہ نام ہی کافی ہے کیونکہ اس فلم کا پہلا پارٹ لوگوں کو خوب یاد ہے.

فلم کے ہدایتکار ندیم بیگ ہیں جنھوں نے اس فلم کا پہلا پارٹ اور پنجاب نہیں جاوں گی بھی بنائی۔انکی ہدایتکاری شاندار ہے فریم لوکیشن ایڈٹنگ سب شعبے قابل تعریف ہیں۔عموما دو یاتین پارٹ والی فلموں کو موازانہ پہلے پارٹ سےکیا جاتا ہے کیونکہ پہلا اتنا شاندار ہوتا ہے تو دوسرے یا تیسرے کی نوبت آتی ہے اس فلم کی ہدایتکاری پہلے پارٹ جیسی ہی ہے فلم کی کہانی ویسے تو فلم کا مزاج مزاحیہ ہے اس میں غلطیوں کی گنجائش بھی دینی چاہیئےمگر پہلے پارٹ کے مقابلے میں اس کی کہانی کوئی زیادہ فوکس نہیں ہے کہیں کہیں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کہانی ٹریک سے اتر کر کبھی کس طرف جا رہی ہے تو کبھی کسی اور طرف۔۔فلم میں سب مصالحے ہیں یہاں تک کہ آج کل کے سیاسی ڈائیلاگ مجھے کیوں نکالا کوبھی ڈالا گیا ہے پھر عمران خان کا وزیر اعظم بننا ایسا سیاسی مصالحہ پہلے پارٹ میں بھی تھا مگر اسکی کہانی پھر بھی ایک نقطے پر مرکوز تھی مگر اس ٘میں ایک تو اداکار بھی زیادہ تھے اور انکو شائد برابر کردار دینا بھی مقصود تھا اس لیے کہیں کہیں کہانی جھول کا شکار ہوتی ہے اور ہیرو ہمایوں سعید ایک طرف انڈیا کے سفیر کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ ہمارا ملک بہادری سے لیکر مزیدار کھانوں تک کسی سے پیچھے نہیں تو دوسری طرف وہی ہیرو خود شاہ رخ خان کا رئِیس فلم کا ڈائلاگ بولتا بھی نظر آتا ہے کہ میری ماں کہتی تھِی کوئی دھندا برا نہیں ہوتا یہ تو کھلا تضاد ہے اگر کوئی کہے کہ وہ تو ہنسانے کے لیے تھا تو ہیرو جب انڈیا کے معاملے کو سامنے لاتا ہے تو وہ خود بھی کا فی سنجیدہ نظر آتا ہے۔ شعبہ اداکاری میں فہد مصطفے ہمایوں سعید نے اچھا کام کیا واسع چوہدری بھی اچھے رہے مگر پنجاب نہیں جاوں گی اور جوانی پھر نہیں آنی ون کے مقابلے میں احمد علی بٹ اس فلم میں چھائے رہے جنھوں نے عورت کا کردار ادا کرکے مرحوم منور طریف کی یاد تازہ کر دی۔ سہیل احمد کی کیا بات ہے ہر کردار آسانی سے کر جاتے ہیں اس فلم میں انکی ڈائیلاگ ڈلیوری پی ٹی وی کے پرانے ڈرامہ دن والی تھی وہی انداز تھا مگر پھر بھی اپنا کردار خوب نبھایا مروا ہوکین اور کبری خان بھی ٹھیک رہی مگر مہوش حیات اور سوہائے علی ابڑو کی کمی محسوس ہوئی۔پارٹ ون اور ٹو کا بڑا فرق کہانی کے بعد میوزک ہے اس میں بھی پانچ گانے ہیں جو کہ اچھے ہیں مگر پہلے پارٹ کے گانے زیادہ زبان عا٘م تھے ریکارڈ بزنس کرنے والی فلمیں اگر دیکھیں تو ندیم کی آئینہ ہو یا معمر رانا کی چوڑیاں یا پنجاب نہیں جاوں گی ہو یا دل والے دلہنیا لے جائیں گے ان تمام فلموں کی ریکارڈ ساز کامیابی کے پیچھے گانوں کا بڑا ہاتھ ہے میوزک وجہ سے یہ فلمیں لوگ بار بار دیکھتے رہے۔ اس فلم کا بزنس عید پر آنے والی تمام فلموں سے اچھآ ہو رہا ہے پھر بھی یہ پنجاب نہیں جاوں گی کا ریکارڈ شائد ہی توڑ سکے۔ الغرض جوانی پھر نہیں آنی ٹو کو پانچ مِیں سے تین سٹآرز یا دس میں سے چھ نمبرز دئے جاسکتے ہیں ہلکی پھلکی مزاحیہ فلمیں دیکھنے والوں کو یہ فلم پسند آئے گی۔

Author works as a news Producer at private channel and writes articles since 2012. He tweets as @zaheerlatif

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here