مان جاوناں کیسی فلم ہے

          ظہیر احمد

فلم مان جاو نا دیکھی فلم کی اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ نئے چہرے ہیں کچھ ڈراموں میں آتے ہیں اور فلم کا ہدایتکار بھی نیا ہے جنھوں نے ڈراموں کی ہدایتکاری کی ہےمگر ان کی یہ پہلی فلم ہے۔ فلم کا آغاز ایک گانے سے ہے اور اس گانے میں اتنے رنگ نظر آئے کہ دیکھ کر اچھا لگا۔ فلم کی کہانی چار دوستوں کے گرد ہے جو اس نظریے پر قائم ہیں کہ شادی نہیں کرنی اور فلم کی ہیروئن اصل میں اس نظریے کو بہت سنجیدگی سے لیے ہوئے ہےکہانی ہلکی پھلکی سی ہے نئے ہدایتکار نے نئی کاسٹ کے ساتھ فلم کے شروع میں ہی توجہ حاصل کر لی اور نئی کاسٹ کی آپس کی کیمسٹری بھی اچھی نظر آئی۔

چالیس منٹ کی فلم چلنے کے بعد جب دیکھنے والے بھی کہانی میں کسی نئے موڑ کے انتظار میں ہوتے ہیں تو ولن کی انٹری ہوتی ہے جن کی ڈائیلاگ ڈلیوری اور غیر سنجیدہ آواز اور اوور ایکٹنگ ایک اچھی فلم پر پہلا دھبہ ہے۔ کہانی میں ایک اہم کردار جس نے کہانی میں جان ڈالنی ہوتی ہے وہ اگر ایسا ہو تو باقی کرداروں کی محنت اور باقی شعبوں کی خوبیاں بھی مانند پڑ جاتی ہیں ۔مشہور ہدایتکار جاوید فاضل نے ایک بار کہا تھا کہ ایک ایکسٹرا اداکار کی خراب اداکاری بھی فلم کا ستیاناس کر دیتی ہے مگر یہاں تو اہم کردار اوور ایکٹنگ کا شکار نظر آیا۔

فلم میں دوسرا جھٹکا اس وقت لگتا ہے جب فلم کی ہیروئن الناز نوروزی جو کہ ایک ایرانی ہیں اور جرمنی میں پرورش پائی اور پاکستان میں انکی پہلی فلم ہے ساری فلم انکے گرد گھومتی ہے خوش شکل فلم کے شروع سے توجہ بھی حاصل کی مگر جب یہ ثابت کرنے کا موقع آیا کہ وہ ہیرو سے سچی محبت کرنے لگی ہے اور اس کے بغیر رہ نہیں سکتی تو ہیروئین سے نہ تو ٹھیک سے رویا گیا اور نہ ہی اس وقت چہرے کے تاثرات دے پائی۔ اپنے باپ کے سامنے روتی ہے اور خوب روتی ہے مگر آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں ہوتا۔ ہدایتکار نے شائد قدرتی نظر آنے کے لیے آنکھوں میں گلیسرین نہ لگانے کی قسم کھائی تھی تو ہیروئن نے بھی ایک بھی آنسو نہ لانے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔

فلم کے سائڈ ہیرو ایاز سموں اور ہیروئن حاجرہ یامین نے اچھی اداکاری کی فلم کے ہیرو بھی ٹھیک رہے۔آصف رضامیر نے اپنا کردار اچھا نبھایا نیئر اعجاز مختصر کردار میں اچھے نظر آئےکیمرہ ورک اورلوکیشز اچھی ہیں میوزک بھی اچھا ہے ایک گانا پاکستان کی پرانی فلم کی کاپی ہے جس پر کوئی قانونی کارروائی بھی کی گئی ہے۔ فلم کا سب سے اہم شعبہ ہداتکاری عابس رضا نے اچھی گرفت رکھی مگر ولن کو کنٹرول کرنا چاہئے تھا اور جب ولن کو اتنا بااثر دکھانے کو کوشش کی گئی تو سمجھ نہیں آئی کہ جب پولیس پکڑ کر لے گئی اور وہ دوبارہ نہیں آیا اور اتنی جلدی شکست کیسے تسلیم کر لی۔ اور پولیس دو بندوں کے جھگڑے کی وجہ سے زیادہ عرصہ تو قید میں نہیں رکھتی تو پھر وہ کردار گیا کہاں؟ کہانی میں ہیرو ایک تھپڑ کھانے کے بعد اتنی جلدی ہار مان لیتا ہے اور ہیروئین کو سبق سکھانے کے لیے تین کردار اور اسکا والد ڈرامہ کرتے ہیں۔ جیسے ایک سین میں ہیروئن روتی ہے اور اسکے والد کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے جو بعد میں سمجھ آتی ہے کہ وہ ڈرامہ تھا اس لیے والد مطمئن نظر آتا ہے لیکن ہیرو جب دوسری لڑکی کی طرف مائل نظر آتا ہے جو کہ اصل میں ڈرامہ ہی ہوتا ہے ان دونوں کے سین دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد ہیرو اصلی کا مائل ہوگیا ہے فلم کا سسپنس اپنی جگہ اس قسم کی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ جس کا بعد میں جواز دیا جاسکے۔الغرض فلم کو زرا سی محنت سے مزید بہتر کیا جا سکتا تھا اور جب سب کی کیمسٹری بھی اچھی ہو اور فلم کا آغاز بھی اچھاکیا ہو تواداکاروں کی کارکردگی کا خیال رکھنا اور کہانی کے باریک پہلو پر توجہ دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔

فلم مان جاو نا کو دس میں سے پانچ نمبرز یا پانچ میں سے اڑہائی سٹار دئے جاسکتے ہیں ۔

Author works as a news Producer at private channel and writes articles since 2012. He tweets as @zaheerlatif

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here