غریب محنت کش کے مکان پر قبضے کی کوشش پولیس نے ناکام بنادی

سیالکوٹ : غریب محنت کش کے مکان پر قبضے کی کوشش پولیس نے ناکام بنادی۔ پولیس نے غریب محنت کش اور بااثر قبضہ مافیا کو شام 4 بجے تھانے میں طلب کرلیا۔

یالکوٹ کے نواحی گاﺅں آڈھا میں تارک وطن پاکستانی میاں طیب ولد مقبول احمد کے گھر کی تعمیر کا کام جاری تھا کہ اسی دوران بااثر شخص شہباز عرف مٹی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دھاوا بول دیا۔ شہبازعرف مٹی علاقے کا بدنام زمانہ شخص ہے جسے گاﺅں کے بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ پہلے بھی ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کرنے کے کیس میں مفرور رہ چکا ہے۔

شہباز نے اپنے غنڈہ گرد عناصر کے ساتھ مل کر میاں طیب کے گھر کا تعمیراتی کام رکوادیا اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران غنڈہ گرد عناصر نے گھر کی خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور کپڑے پھاڑ دیے جبکہ میاں طیب کے بھائی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک خاتون نے گھر میں جاری غنڈہ گردی رکوانے کیلئے ون فائیو پر کال کی جس پر پولیس نے فوری رسپانس کیا اور موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس نے آکر غنڈہ گرد عناصر کو غنڈہ گردی سے روکا جبکہ گھر کا تعمیراتی کام بھی رکوادیا اور فریقین کو شام 4 بجے تھانے پہنچنے کا حکم دیا۔ گھر کے مالک میاں طیب کے بھائی کا کہنا ہے کہ ان کا گھر شاملاٹ کا حصہ تھا لیکن اب دو نسلوں سے ان کے نام پر رجسٹرڈ ہے لیکن بااثر شخص شہباز عرف مٹی کو شاید یہ معلوم نہ تھا اور وہ گھر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

میاں طیب نے ڈی پی او سیالکوٹ، ڈی سی سیالکوٹ، چیف سیکرٹری پنجاب اور وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے اندر تھانوں کچہریوں کے چکر کاٹنے کی ہمت نہیں ہے، اس لیے معاملے پر ایکشن لیا جائے اور غنڈہ گرد عناصر کو ہمارے مکان پر قبضے سے روکا جائے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here