’میں ڈمی چیئرمین ہوں‘، اقبال قاسم کرکٹ کمیٹی سے مستعفی

سابق لیفٹ آرم سپنر اقبال قاسم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور کرکٹ بورڈ نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔
اقبال قاسم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ای میل کے ذریعے استعفیٰ بھیج دیا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ وہ کرکٹ کمیٹی کے ایک ڈمی چیئرمین ہیں جو ایک مستحق میچ ریفری بھی تجویز نہیں کرسکتا۔ انہوں نے اپنے استعفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے ایسے کھلاڑی جو اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اقبال قاسم اس بات پر سخت ناخوش تھے کہ کرکٹ کمیٹی کی ایک سب کمیٹی وسیم اکرم کی سربراہی میں بنائی گئی تھی جس میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز عمر گل اور علی نقوی بھی شامل تھے۔ اس سب کمیٹی کا کام ڈومیسٹک کرکٹ اور اس میں میچ ریفریز اور امپائرز کی تعیناتی سے متعلق معاملات پر نظر رکھنا تھا لیکن اس سب کمیٹی کی تجاویز مرکزی کرکٹ کمیٹی کے سامنے نہیں آئیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اقبال قاسم پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کیے جانے پر بھی خوش نہیں تھے اور انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اور دیگر حکام کو اپنی تجاویز میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھنے کےلیے بھی کہا تھا۔
یاد رہے کہ اقبال قاسم نے31 جنوری 2020کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں وسیم اکرم۔ عمرگل۔ علی نقوی اور عروج ممتاز شامل ہیں۔ جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی یہ کرکٹ کمیٹی قائم ہوئی ہے اقبال قاسم اس کے تیسرے چیئرمین تھے۔ ان سے قبل محسن حسن خان اور وسیم خان چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی یہ کرکٹ کمیٹی دراصل ایک ایڈوائزری کمیٹی ہے جو کرکٹ سے متعلق صرف تجاویز دے سکتی ہے فیصلے نہیں کرسکتی۔ کرکٹ کمیٹی ماضی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا جائزہ لینے کےلیے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کو طلب کرچکی ہے اور انگلینڈ کے حال میں ختم ہونے والے دورے کے بعد مصباح الحق دوبارہ اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اقبال قاسم کے استعفے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس بات پر مایوسی ہے کہ اقبال قاسم نے میرٹ اور ایک آزادانہ پینل کے فیصلے کا احترام کرنے کے بجائے اپنی تجویز پر عمل نہ کیے جانے پر استعفی دے دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اقبال قاسم نے جب یہ عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا آئین نافذ ہوچکا تھا جس میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کا کردار ختم ہوچکا تھا اور یہ بات اقبال قاسم کو معلوم تھی کہ نئے ڈھانچے اور نئے نظام میں اب ادارتی ٹیموں کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمیٹی کے نئے چیرمین کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here