فضائی حدود کی بندش، 2 ہفتوں میں پاکستان کو 250 کروڑ کا نقصان

کراچی: پاک بھارت کشیدگی کے نتیجے میں فضائی حدود کی بندش سے پاکستان کو دو ہفتوں میں ڈھائی سو کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ مسافت کا دورانیہ بڑھنے سے ایئرلائنز کا شیڈول بھی متاثر ہورہا ہے،جس کے باعث کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

نجی اخبار جنگ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے بعددونوں ممالک نےایک دوسرے کے لیے اپنی فضائی حدودبند کر رکھی ہیں اس بندش کو اب 2ہفتے گزر چکے ہیں، دونوں ممالک کی فضائی بندش سے نہ صرف ان ممالک کی ایئر لائن اورسول ایوی ایشن کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے بلکہ یورپ سے مشرق بعید اور مشرق بعید سے یورپ جانے والی درجنوں ایئر لائنز کو نہ صرف مالی نقصان کا سامنا ہے بلکہ مسافت کا دورانیہ بڑھنے سے ان کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔

پروازوں کی بندش کے باعث قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مخصوص فضائی روٹس پر پابندی کی وجہ سے 105کروڑ جبکہ سول ایوی ایشن کو تقریباً150کروڑکا نقصان ہو چکا ہے ،انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی بندش اور صرف مخصوص فضائی روٹس پر پرواز کی وجہ سے ایئرلائنز کواضافی اخراجات کا سامنا ہے۔

اس وقت بھارت کے ساتھ جاری کشیدہ صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی فضائی حدود جزوی طور پر بند ہے۔صرف بڑے ایئرپورٹس کھلے ہیں جبکہ مخصوص فضائی روٹس پر پرواز کی ہدایت کی وجہ سے پاکستان میں اندرون ملک اور بین الاقوامی روٹس پر پرواز کے دورانیہ میں اضافہ ہوگیا ہے۔

عام دنوں کی نسبت کراچی سے لاہور اور اسلام آباد کا دورانیہ تقریبا 30سے 35منٹ بڑھ چکا ہے ، کراچی سے ملتان کا فضائی سفر بھی ڈیڑھ گھنٹہ سے بڑھ کر 2گھنٹے 25منٹ تک ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسافر طیاروں کو بھارتی سرحد سے دور پرواز کی ہدایت ہے ۔ اس لیے کراچی سے پرواز کے بعد طیارے بلوچستان میں پنجگور اور ژوب پر سے پرواز کرتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچتے ہیں اور وہاں سے اسلام آباد، لاہور اور ملتان کا رخ کرتے ہیں۔

فضائی سفرکا دورانیہ بڑھنے سے ایئر لائن کے فیول اخراجات بڑھ گئے ہیں اور صرف پی آئی اے کو اس سلسلے میں روزانہ 7سے ساڑھے سات کروڑ کے نقصان کا سامنا ہے اور اس طرح اگر 7کروڑ کے حساب سے بھی تخمینہ لگایا جائے تو اب تک 15 روز میں یہ 105کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعدپاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 27 فروری کو ملک کی فضائی حدود سے سول جہازوں کی آمدو رفت پر پابندی عائد کردی تھی۔ یہ پابندی پاکستان کے اوپر سے گزرنے والی فضائی ٹریفک پر بھی عائد تھی۔ تاہم یکم مارچ کو یہ پابندی جزوی طور پر اٹھالی گئی ہے۔

دوسری جانب سول ایوی ایشن کو بھی روٹ نیوی گیشن کے سلسلے میں بھاری نقصان کا سامنا ہے ،سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق جانے والی پروازوں کے پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here