مشال قتل کا آج سنایا جانے والا فیصلہ موخر

پشاور: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ موخر کر دیا ہے، کیس کا فیصلہ اب 21 مارچ کو سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں مشال قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں پولیس نے گرفتار چار ملزمان اسد کاٹلنگ، صابر مایار، عارف خان مردانوی اور اظہار اللہ کو سخت سیکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، عدالت کی جانب سے آج مشال قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلے کے لیے 21 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔

فاضل عدالت نے کیس میں مجموعی طور چھیالیس گواہان کے بیانات کو قلمبند کیا تھا، جس میں مقتول مشال خان کے والد اقبال خان بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ تیرہ اپریل دو ہزار سترہ کو خیبر پختونخواہ کے شہر مردان میں عبد الولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کے الزام میں مشال خان کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔

بعد ازاں پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران مشال خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے توہین آمیز کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سولہ اپریل دو ہزار سترہ کو مردان یونیوسٹی کے طالبعلم مشال خان کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لیا، اور چھتیس گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کی۔

سپریم کورٹ نے انیس اپریل دو ہزار سترہ کو مشال قتل کیس میں پشاور ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے روک دیا ساتھ ہی سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک سے وضاحت طلب کی کہ جب تحقیقاتی ٹیم کام کر رہی ہے تو جوڈیشل کمیشن کی کیا ضرورت ہے؟

انتیس اپریل دو ہزار سترہ کو اقوام متحدہ نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

پولیس نے مشال خان قتل کے الزام میں اٹھاون افراد کو گرفتار کیا جن میں سے بیشتر کا تعلق عبدالولی خان یونیورسٹی سے ہی تھا ان میں یونیورسٹی کے ملازمین بھی شامل ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جسٹس فضل سبحان نے انیس ستمبر دو ہزار سترہ کو مشال قتل کیس میں گرفتار ستاون ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے سترہ ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کی۔

ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان خان نے مقدمے کی سماعت کے بعد ستایئس جنوری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو سات فروری کو سنایا گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول پر گولی چلانے والے عمران علی کو سزائے موت جبکہ پانچ مجرموں کو پچیس، پچیس سال قید کی سزا سنائی، عدالت نے پچیس مجرموں کو چار، چار سال قید کی سزا سنائی جبکہ چھبیس ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here