اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد:اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا،اپوزیشن نے احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے اتحادیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو رہبر کمیٹی کے فیصلے کے علاوہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ رہبر کمیٹی کرے گی، اس کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔

رہبر کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آزادی مارچ دو دن بعد نیا رخ اختیار کرے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے میاں افتخار کا کہنا ہے کہ چاہے مہینہ لگ جائے ، اپنے قائدین کے حکم پر یہاں بیٹھے رہیں گے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے فیصلہ ہوگيا ہے کہ حکومت پر مزید دباؤ بڑھایاجائے گا۔

دوسری طرف کراچی سے آزادی مارچ شروع کرکے اسے اسلام آباد تک پہنچادینے والی جمعیت علمائےاسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللّٰہ نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج ملک بھر میں پھیل سکتا ہے۔

’جیو نیوز‘ کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی کفایت اللّٰہ نے اس سلسلے میں مختلف آپشنز بھی بتائے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں مستعفی ہو جائیں تو نئے انتخابات ہو سکتے ہیں، ملک بھر میں لاک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے۔

مفتی کفایت اللّٰہ کا مزید کہنا ہے کہ شاہراہیں بند ہوں گی، کاروبار ٹھپ ہو گا تو حکمران استعفیٰ دینے پر مجبور ہو جائیں گے، ڈی چوک جانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے چوہدری برادران ہی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here