قوم کو سستی اشیا فراہم کرنے کیلئے 50 ہزار نئی پرچون دکانیں

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عوام کو سستی اشیاءاور روزگار کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت ملک میں 50 ہزار نئے ریٹیل اسٹورز (پرچون کی دکانیں) کھولے جائیں گے۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریٹیل سٹورز کھولنے کے لیے شہریوں کو 5 لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جائے گااور 1500 ریٹیل سٹورز فوری طور پر کھولے جائیں گے۔

ریٹیل سٹورز کو60 فیصد اشیاءیوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن سپلائی کرے گا جب کہ باقی 40 فیصد اشیاءکا بندوبست اوپن مارکیٹ سے سٹور مالکان خود کریں گے۔ اِس منصوبے سے 50 ہزار خاندانوں کوبراہ راست روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جس کیلئے ابتدائی طورپر 25ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ راشن کارڈ اسکیم کو حتمی شکل دینے کا عمل بھی آخری مرحلے میں ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 7 ارب روپے کا ریلیف پیکچ رمضان کے بعد تک جاری رکھنے کاحکم دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں کمی کیلئے اربوں روپے کا ایک اورریلیف پیکیج دیا جائیگا اور اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے،غریب افراد کیلئے راشن کارڈ کی بھی منظوری دی جائیگی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کوریلیف پیکیج کی سمری کی تیاری کی ہدایت کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا آج یوٹیلٹی اسٹورز حکام کیساتھ اہم اجلاس ہوگا ، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کےذریعے غریب افراد کیلئے راشن کارڈمتعارف کرانے کی بھی منظوری دی جائے گی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے چیئرمین ذوالقرنین علی بتایا کہ وزیراعظم فوری طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں، ریلیف پیکیج کیلئے سمری تیار کی جارہی ہے۔ریلیف پیکیج کیلئے وزیراعظم اور مشیر امور خزانہ نے منظوری دے دی ہے اور اب باضابطہ طور پر ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائیگی جس کے فوری بعد ریلیف پیکیج پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ملک میں نصف آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے،ایک بڑی آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ کی آبادی غذائی قلت کا شکار ہے ، یونیسف کے مطابق ملک میں صرف 9فیصد بچوں کو مناسب اور قابل قبول غذا میسر ہے ، غذائی قلت کے حوالے سے سندھ میں ہر دوسرابچہ غذائی قلت کا شکا رہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 37لاکھ بچے چائلڈ لیبر 20لاکھ بچے ڈومیسٹک لیبر جبکہ 12لاکھ بچے اسٹریٹ چائلڈ کا شکار ہیں ،محکمہ شماریات کے مطابق ایک سال کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں 11فیصد اضافہ ہوا ہے، علاج 12فیصد ، مہنگا ہوگیا۔ایک سال میں 10لاکھ لوگ بیروز گار ہوچکے ہیں ، موجودہ حکومت کے دور میں گیس کی قیمتوں میں 143فیصد تک اضافہ ہوا ہے ، روٹی اور نان چار روپے ، گھی 10روپے کلو گرام ، دالیں 14روپے فی کلوگرام تک مہنگی ہوئیں۔

اسلام آباد میں گزشتہ دنوں ہونیوالی ایک سائیکاٹرسٹ کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں 2کروڑ افراد نفسیاتی اور ذہنی امراض کا شکار ہو چکے ہیں جس سے خودکشی اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں آٹا 20لاکھ ٹن ماہانہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی قیمت میں 20روپے کلوگرام اضافہ ہوا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیمت میں مصنوعی اضافے سے 40ارب روپے کی آمدن کن لوگوں کی جیبوں میں گئی جبکہ چینی کی ماہانہ کھپت 4لاکھ ٹن ہے اور اس کی قیمت میں بھی 20روپے فی کلواضافہ ہوا ، 8ارب روپےکی اضافی آمدن سے جن افراد نے فائدہ اٹھایا۔وزیراعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی میں ملوث افراد کیخلاف تحقیقات کے احکامات دے دیئے ہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here