سانحہ ماڈل ٹائون، ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ نے معطل کر دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن دوسری جے آئی ٹی بحالی درخواست پرلاہور ہائیکورٹ کا عبوری حکم واپس لیتے ہوئے جے آئی ٹی کو کام کرنے کی اجازت دیدی،عدالت نے ماڈل ٹاﺅن متاثرین کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن دوسری جے آئی ٹی بحالی درخواست پرسماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ پنجاب حکومت نے دوسری جے آئی ٹی بنانے کی ذمہ داری لی تھی ، جسٹس سجادعلی شاہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نئی جے آئی ٹی بنانے پر کوئی حکم نہیں دیاتھا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ نئی جے آئی ٹی 80 فیصد کام مکمل کرچکی تھی،اپریل2019 میں لاہورہائیکورٹ نے نئی جے آئی ٹی کو کام سے روک دیا،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ماڈل ٹاﺅن کاواقعہ کب پیش آیا کتنے لوگوں کوماراگیا؟،وکیل متاثرین نے کہا کہ 17 مئی 2014 کو یہ واقعہ ہوا10 لوگ جان سے گئے،سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں 66 لوگ زخمی ہوئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ نے عبوری حکم سے درخواست گزاروں کو حتمی ریلیف دے دیا ،دوسری جانب کے فریقین کو سنا بھی نہیں گیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ لاہورہائیکورٹ کا عبوری حکم واپس لے لیتے ہیں ،جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسارکیا کہ کیا اس مرحلے میں دوسری جے آئی ٹی بنانے میں قانون رکاوٹ ہے؟۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ دوسری جے آئی ٹی بنانے میں کوئی رکاوٹ نہیں،وکیل متاثرین نے کہاکہ سابق دور میں بنائی گئی جے آئی ٹی نے متاثرین سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ حکومت نئی جے آئی ٹی سے اضافی تحقیقات کراناچاہتی ہے توکرالے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ٹرائل کورٹ میں کارروائی نہیں رکنی چاہئے ،عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک ملتوی کردی۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here