وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا کنٹرول قانون بنا لیا

Kiev, Ukraine - October 17, 2012 - A logotype collection of well-known social media brand's printed on paper. Include Facebook, YouTube, Twitter, Google Plus, Instagram, Vimeo, Flickr, Myspace, Tumblr, Livejournal, Foursquare and more other logos.

اسلام آباد: سبین بن ارشد : وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کے لیے نئے قوانین بنا لیےہیں جن کے تحت سوشل میڈیا کو کنٹرول کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون بنا لیا، قانون کا اطلاق فوری ہو گیا۔

وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی نے بتایا کہ اٹھائیس جنوری کو وفاقی کابینہ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ایکٹ 1996 اور انسداد الیکٹرانک جرائم ایکٹ 2016 کے ذیلی قوانین میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔

ان قوانین کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی بنے گی، ہنگامی صورتحال میں اتھارٹی از خود فیصلہ کرکے کمپنی کو سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد 6 گھنٹوں میں ہٹانے کا حکم دے گی، عملدرآمد نہ ہوا تو متعلقہ سوشل میڈیا کی سروسز پاکستان میں بند کی جا سکیں گی۔

وفاقی سیکریٹری آئی ٹی شعیب صدیقی نے کہا کہ اب نئے سوشل میڈیا قوانین کو پارلیمان سے منظور کرانے کی ضرورت نہیں، یہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بن گئے ہیں۔ حکومت نے سوشل میڈیا کے لیے نئے قوانین بنا لیے ، نہ کسی اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کی گئی ، نہ ہی اعتماد میں لیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے نئے سوشل میڈیا قوانین کی منظوری بھی دے دی، سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے نیشنل کو آرڈی نیشن اتھارٹی بنے گی،جس کے سربراہ وزارت آئی ٹی کے انچارج وزیر ہوں گے۔

ہنگامی صورتحال میں اتھارٹی از خود فیصلہ کر کے کمپنی کو سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد 6 گھنٹوں میں ہٹانے کا حکم دے گی ، عملدرآمد نہ ہوا تو متعلقہ سوشل میڈیا کی سروسز پاکستان میں بند کی جا سکیں گی، خلاف ورزی کرنے والی کمپنی کو 50 کروڑ روپے تک جرمانہ بھی کیا جا سکے گا ۔

نئے قوانین کے تحت یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر، ٹک ٹاک، ڈیلی موشن سمیت عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اورکمپنیوں کو 3 ماہ میں رجسٹریشن کرانے کا پابند کر دیا گیا ۔تین ماہ میں اسلام آباد میں دفاتر قائم کرنا بھی لازم ہو گا ۔پاکستان میں اپنا رابطہ افسر بھی تعینات کرنا ہو گا جبکہ ایک سال میں پاکستان میں ڈیٹا سرور بھی بنانا ہوں گے۔

نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا پر قومی اداروں، ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہو سکے گی، سوشل میڈیا اتھارٹی کو بیرون ملک سے قومی اداروں کو آن لائن نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار ہوگا، ممنوعہ مواد کی شکایت پرسوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی بند کر سکے گی۔

نئے قوانین کےمطابق یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر بنائے جانےوالے مقامی پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگی۔ وفاقی سیکریٹری آئی ٹی کےمطابق قوانین کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنادیاگیا، عمل درآمد شروع ہوچکاہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here