پاکستان میں کورونا وائرس، مجموعی کیسز1000،اموات7 ہو گئیں

اسلام آباد: پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 7 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں مجموعی کیسز کی تعداد 1000 ہوگئی۔

منگل کو ملک میں مجموعی طور پر 106 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے خیبرپختونخوا میں 40، پنجاب میں 50 اور سندھ میں 16 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد ملک بھر میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 990 تک جاپہنچی۔

مہلک وائرس سے اب تک 20 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق سندھ، 4 کا گلگت بلتستان اور 2 کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔

ملک میں کورونا وائرس سے اب تک 7 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں خیبرپختونخوا میں 3، بلوچستان، گلگت بلتستان، سندھ اور پنجاب میں ایک ایک ہلاکت ہوگئی۔

سرکاری پورٹل کے مطابق سندھ میں بدھ کے روز کورونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 413 ہوگئی ہے۔

تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان کی جانب سے مزید تین کیسز کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

صحت یاب ہونے والوں میں سے 13 کا تعلق کراچی اور ایک کا حیدرآباد سے ہے جب کہ ایک مریض انتقال کرچکا ہے۔

بلوچستان میں آج کورونا وائرس کے مزید 5 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 115 ہوگئی ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق وائرس کی تصدیق تفتان قرنطینہ سینٹر میں مقیم 5 افراد میں ہوئی ہے۔

بلوچستان میں منگل کے روز کورونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔

سرکاری پورٹل کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کے روز ایک کیس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد شہر میں مجموعی کیسز کی تعداد 16 بتائی گئی ہے۔

تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد یا دیگر حکام کی جانب سے کیس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

سرکاری پورٹل میں گلگت بلتستان میں بدھ کے روز کورونا کا ایک کیس رپورٹ ہوا جس کے بعد علاقے میں مجموعی تعداد 81 ہوگئی ہے۔

گلگت بلتستان کے ترجمان کی جانب سے کورونا کے کیس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق ضلع نگر میں 34، اسکردو میں 16، گلگت اور شِگر میں 13، 13، کھرمنگ میں 3 اور استور میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

فیض اللہ فراق نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے 4 مریض صحتیابی کے بعد گھر منتقل ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والے ڈاکٹر اسامہ خود بھی اسی مہلک وبا سے انتقال کرچکے ہیں۔

گزشتہ روز پنجاب میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آئی جہاں لاہور کے میو اسپتال میں 57 سالہ مریض انتقال کرگیا۔

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے صوبے میں وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کی۔

پنجاب میں منگل کو کورونا وائرس کے مزید 50 کیسز سامنے آئے جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 296 ہوگئی ہے جس کی تصدیق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد میں 176 زائرین شامل ہیں جب کہ لاہور میں 65، گجرات میں 20، جہلم سے 16، گوجرانوالہ 8، ملتان 3، راولپنڈی 2، فیصل آباد 2، سرگودھا، نارووال، منڈی بہاؤ الدین اور رحیم یار خان میں ایک، ایک کیس ہے۔

خیبر پختونخوا میں منگل کو 40 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے بھر میں متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 78 ہوگئی۔

صوبائی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تفتان سے ڈیرہ اسماعیل خان آنے والے زائرین میں سے 37 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ صوبے کے دیگر شہروں میں 3 نئے کیسز سامنے آئے۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ڈیرہ اسماعیل خان میں 53، پشاور میں 12، مردان میں 6، مانسہرہ میں 3، بونیر، چارسدہ، جنوبی وزیرستان اور کرک میں ایک، ایک مریض میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ صوبے میں کورونا وائرس سے اب تک 3 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کا اب تک ایک ہی کیس رپورٹ ہوا ہےجب کہ ریاست میں حکومت نے شہریوں سے احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد ملک بھر میں فوج تعینات ہے اور چاروں صوبے لاک ڈاؤن کا اعلان کرچکے ہیں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد کشمیر میں بھی فوج تعینات کی گئی ہے اور فوج کی خدمات آئین کے آرٹیکل 131 اے کے تحت طلب کی گئی ہیں۔

آزاد کشمیر میں بھی منگل سے 3 ہفتوں کا لاک ڈاون شروع ہو گیا۔

وزارت ریلوے نے 24 مارچ کی رات 12 بجے سے ملک بھر میں  ٹرین آپریشن معطل کردیا ہے جس کے تحت 31 مارچ تک مسافر ٹرینیں بند رہیں گے جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے معاشی پیکیج کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل 15 روپے فی لیٹر سستا کردیا گیا ہے جب کہ مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ ریلیف و بحالی نے کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے افراد کی تدفین سے متعلق گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں۔

محکمے نے کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کا غسل اور تدفین کرنے والوں کو ماسک، دستانے اور دیگر حفاظتی تدایبر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کو پلاسٹک کور میں بند کرکے تابوت میں دفن کیا جائے، غسل کے دوران استعمال ہونے والے اشیاء کو فوری تلف کیا جائے جب کہ قریبی رشتہ داروں کو میت تابوت کے گلاس پین ونڈو میں دیکھنے کی اجازت ہوگی۔

 

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here