چیف جسٹس کا ملک بھر کے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کراچی کی تمام مارکیٹس کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کمشنر کراچی کو دوکانیں سیل کرنے سے روک دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کوروناازخودنوٹس کیس کی سماعت جاری ہے ، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ سماعت کررہاہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل خالدجاویدنےکراچی سےوڈیولنک پر دلائل کا آغاز کیا۔

کوروناازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کراچی کی تمام مارکیٹس کھولنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس کی کمشنرکراچی کومارکیٹس کھولنےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا زینب مارکیٹ میں غریب لوگ آتےہیں، زینب مارکیٹ میں لوگوں کوایس او پیزعمل کرائیں، ایس او پیز پر عمل کرانا ہےآپ نے لوگوں کو مارنایا ڈرانانہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا کراچی میں چند مالز کے علاوہ تمام مارکیٹس کھلی ہیں، جو دکانیں سیل کی گئیں انہیں بھی کھول دیں، چھوٹےتاجرکوروناکےبجائےبھوک سےہی نہ مرجائیں، وزارت قومی صحت کی رپورٹ اہمیت کی حامل ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا جن چھوٹی مارکیٹس کو کھولا گیا وہ کونسی ہیں؟ کیا زینب مارکیٹ اور راجہ بازار چھوٹی مارکیٹس ہیں؟ کیا طارق روڈ ،صدر کا شمار بھی چھوٹی مارکیٹوں میں ہوتا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ شاپنگ مالز کے علاوہ تمام مارکیٹیں کھلی ہیں جبکہ کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ مالز میں 70فیصد لوگ تفریح کے لئے جاتے ہیں۔

کوروناازخودنوٹس کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری سندھ کو فوری طلب کرتے ہوئے سندھ حکومت سے بڑے شاپنگ مالزکھولنے پر ہدایات فوری مانگ لی، اےجی سندھ نے کہا حکومت آج سے شاپنگ مالز کھولنے پر غورکررہی ہے۔

جسٹس مظہرعالم کا کہنا تھا کہ باقی مارکیٹیں کھلی ہوں گی تو شاپنگ مالز بند کرنے کا کیا جواز؟ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ عید کے موقع پر ہفتے ،اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کی جائیں اور چھوٹےدکانداروں کوکام کرنےسےدیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو بھوک سے مر جائے گا، کراچی میں پانچ بڑے مال کےعلاوہ کیاسب مارکیٹیں کھلی ہیں،کمشنر کراچی نے بتایا کہ کچھ مارکیٹس کو ایس او پی پر عمل نہ کرنے پر سیل کیا ہے۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ سیل کی گئی مارکیٹس بھی کھولیں ،انھیں ڈرانےکےبجائےسمجھائیں،کراچی کی تمام مارکیٹ کھول دیں، مارکیٹس میں چھوٹے طبقے کا کاروبار ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here