تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ کیس، معاملہ پھرسکروٹنی کمیٹی کے سپرد

الیکشن کمیشن نے نومبر 2014 سے زیر التواء تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ کیس کا عبوری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کرنے والی سکروٹنی کمیٹی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک بار پھر تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ کا معامہ سکروٹنی کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرکے چھ ہفتے میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی اور نہ ہی شواہد کو جانچا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کو متعلقہ فورم اور افراد تک رسائی کا مکمل اختیار حاصل تھا۔ تحریک انصاف پاکستان فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن نے 29 مارچ 2018ء کو سکروٹنی کمیٹی بنائی تھی جس کے ٹی او آرز 10 اپریل 2018ء کو تیار کیے گئے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے ایک مہینے میں اپنی رپورٹ جمع کرانی تھی لیکن سترہ ماہ گزرنے کے بعد کمیشن کو ادھوری رپورٹ پیش کی گئی۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی سے مزید دستاویزات طلب کر لیں،الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے دونوں فریقین کو 24 ستمبر کو دوبارہ طلب کر لیا۔۔ پی ٹی آئی نے سکروٹنی کمیٹی میں موقف اپنایا ہے کہ ٹی او آرز کے مطابق مطلوبہ دستاویزات فراہم کریں گے.

خیال رہے کہ برسر اقتدار تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن میں نومبر 2014 سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا چلا جا رہا ہے اور چھ برس گزرنے کے بعد بھی وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت کیخلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔

فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002 کے مطابق شق 15 کا استعمال کرتے تحریک انصاف کو بطور جماعت کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 61 اور 62 بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف اگر اس کیس میں خود کو کلیئر نہ کروا سکی تو نہ صرف بطور جماعت اس کا وجود ختم ہو جائے گا بلکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی، قومی اور سینیٹ بھی اپنے عہدوں سے فارغ ہوجائیں گے اور یوں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 13 کے تحت مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن میں بینک اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا مجاز ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی گئی ہیں اور کوئی بھی فنڈ کسی ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا اس میں اس بات کو چھپایا گیا ہے تحریک انصاف کو کس کس ذرائع سے پارٹی فنڈز ملے گی۔ پارٹی کے فنڈز کے ذرائع ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 61 اور 62 کوئی بھی اتھارٹی استعمال کر سکتی ہے چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ.

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here