محسن پاکستان اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے

محسن پاکستان اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 10 اکتوبر کی صبح رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔

ابتدائی زندگی

عبدالقدیر خان کی پیدائش یکم اپریل 1936 میں بھارتی شہر بھوپال میں ہوئی اور انہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہلخانہ 1947 میں آزادی کے بعد ہجرت کر کے مستقل طور پر پاکستان میں مقیم ہو گئے۔ انہوں نے 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جرمنی کے شہر برلن چلے گئے۔

اعلیٰ تعلیم
برلن میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ سے ماسٹرز آف سائنس اور پھر بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن سے ڈاکٹریٹ آف میٹلرجیکل انجینئرنگ کی اسناد حاصل کیں، اس کے علاوہ انہوں نے ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری جوائن کی۔

بعدازاں وہ 1976 میں واپس پاکستان آگئے جہاں انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی جس کا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاءالحق نے تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا تھا۔

پاکستان ایٹمی طاقت

بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب میں مئی 1998 میں پاکستان نے کامیاب ایٹمی تجربہ کیا جس کی نگرانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہی کی تھی اور یوں 28 مئی کو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ پاکستان اب ایٹمی پاور بن گیا ہے۔

اے کیو خان نے کئی مرتبہ اس بات کا تذکرہ کیا کہ ہمارے ملک میں ایٹمی پروگرام سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا جسے بعد میں مختلف حکمرانوں نے آگے بڑھایا۔

ڈاکٹر اے کیو خان کے انسٹی ٹیوٹ نے ان کی سربراہی میں نا صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اہلیہ اور بچے

محسن پاکستان نے ہالینڈ میں رہائش کے دوران ہنی خان نامی خاتون سے شادی کی تھی جن سے ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں جو شادی شدہ ہیں۔

محسنِ پاکستان کے اعزازات

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 13 طلائی تمغوں سے نوازا گیا جب کہ آپ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالقدیر نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی تحریر کیے۔

1996 میں جامعہ کراچی نے عبدالقدیر کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند عطا کی جبکہ 14 اگست 1996 میں صدر فاروق لغاری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا اور پھر 1989 میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet نامی ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here