پی کے ایل آئی کیس، سپریم کورٹ کا ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

لاہور:سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی کے ایل آئی کیس میں ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ درج نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی، عدالت نے فریقین کے وکلا کو 16 جنوری کو رپورٹ پر جواب داخل کرنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے پی کے ایل آئی ازخودنوٹس کی سماعت کی ،ڈی جی اینٹی کرپشن نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردی ،ڈی جی اینٹی کرپشن نے رپورٹ میں کہا ہے کہ پی کے ایل آئی فاسٹ ٹریک منصوبہ قوانین کیخلاف ہے .

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنسلٹنٹ اور عملے کو بھاری تنخواہیں ادا کی گئیں مگر کام نہیں ہوا،پی کے ایل آئی منصوبے میں پیپرارولز کی خلاف ورزیاں ہوئیں،پی کے ایل آئی کی وجہ سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے پروجیکٹ رکنے نہیں دینا،اینٹی کریشن انکوائری کرے اور ذمہ داروںکیخلاف کارروائی کرے، اعتزاز احسن نے کہا کہ ایف آرئی آر درج نہ کرائی جائے یہ کیریئر پر دھبہ ہو گا.

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اینٹی کرپشن مقدمہ درج کرکے کارروائی کرے،رپورٹ میں بہت سی غلطیاں ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اتنا بڑا پروجیکٹ بنایامگربچوں کے جگرکی پیوندکاری کا علاج نہ ہو سکا،سرکاری سطح پر بچوں کے جگر کے علاج کیلئے سہولت نہیں ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ عوام کی زندگی کامعاملہ ہے ہم مدد کرنا چاہتے ہیں ۔

صوبائی وزیرڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ پی کے ایل آئی سے متعلق کابینہ نے قانون سازی کی اجازت دیدی ہے،پی کے ایل آئی کیلئے بورڈ آف گورنرزبنادیا گیا.

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چاہتے ہیں ہسپتال حکومت چلائے پہلے کی طرح ٹرسٹ نہیں ،ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ جون تک بچوں کے جگر کی پیوندکاری شروع ہو جائے گی ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرانے ٹرسٹ کے ممبران کوبورڈآف گورنرز میں شامل نہ کیا جائے.

عدالت نے پی کے ایل آئی کی سابق انتظامیہ کے وکلا کو بدھ تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔عدالت نے اینٹی کرپشن کو ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کرنے کا حکم دیدیا۔

 

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here